الادب المفرد - حدیث 1192

كِتَابُ بَابُ مَنْ بَاتَ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ لَهُ سُتْرَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ - عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ)) . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1192

کتاب بغیر چار دیواری والی چھت پر سونے کی ممانعت سیدنا علی بن شیبان یمامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو رات کو ایسے گھر کی چھت پر سویا جس پر پردہ اور رکاوٹ نہ ہو تو اس کی (اللہ تعالیٰ پر)کوئی ذمہ داری نہیں۔‘‘ ابو عبداللہ کہتے ہیں:اس کی سند محل نظر ہے۔
تشریح : مطلب یہ ہے کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور اس ذات عالی کا تمام لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ بشرطیکہ بندے خود اس عہد کو نہ توڑیں۔ جو شخص ننگی چھت پر سوئے جبکہ کوئی پردہ بھی نہ ہو تو ایسا شخص اگر رات کو چھت سے گر جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس لیے کہ عین ممکن ہے رات کو سوئے میں انسان اٹھ کر جائے اور اس کی توجہ ہی نہ ہو کہ وہ چھت پر سویا ہے اور گر جائے۔ اس لیے ننگی چھت پر سونا درست نہیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب في النوم علی سطح غیر محجر:۵۰۴۱۔ انظر الصحیحة:۶۷۴۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ مومن اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے اور اس ذات عالی کا تمام لوگوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ بشرطیکہ بندے خود اس عہد کو نہ توڑیں۔ جو شخص ننگی چھت پر سوئے جبکہ کوئی پردہ بھی نہ ہو تو ایسا شخص اگر رات کو چھت سے گر جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس لیے کہ عین ممکن ہے رات کو سوئے میں انسان اٹھ کر جائے اور اس کی توجہ ہی نہ ہو کہ وہ چھت پر سویا ہے اور گر جائے۔ اس لیے ننگی چھت پر سونا درست نہیں۔