الادب المفرد - حدیث 1189

كِتَابُ بَابُ لَا يَأْخُذُ وَلَا يُعْطِي إِلَّا بِالْيُمْنَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِشِمَالِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ)) قَالَ: كَانَ نَافِعٌ يَزِيدُ فِيهَا: وَلَا يَأْخُذْ بِهَا، وَلَا يُعْطِي بِهَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1189

کتاب دائیں ہاتھ سے لینے اور دینے کا بیان سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں کوئی بائیں ہاتھ سے کھائے نہ بائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔‘‘ نافع جب یہ روایت بیان کرتے تو ان الفاظ کا اضافہ کرتے:’’بائیں ہاتھ کے ساتھ نہ کوئی چیز پکڑے اور نہ دے۔‘‘
تشریح : چیز لیتے اور دیتے وقت اہتمام کرنا چاہیے کہ دایاں ہاتھ استعمال کیا جائے اور اسی طرح تمام اہم اور پاکیزہ کام، جیسے کھانا، پینا، پہننا وغیرہ۔ سب دائیں ہاتھ سے کرنے چاہئیں۔ اگر کوئی شخص الٹے ہاتھ سے دے تو اسے بھی تنبیہ کرنی چاہیے۔ لیکن افسوس کہ لوگ شیطان کو راضی کرتے ہیں اور رحمان کی ناراضگی کی پروا نہیں کرتے۔ اعاذنا الله منه۔
تخریج : صحیح:أخرجه مسلم، کتاب الاشربة:۲۰۲۰۔ وأبي داود:۳۷۷۶۔ والترمذي:۱۷۹۹۔ والنسائي في الکبریٰ:۶۸۶۴۔ چیز لیتے اور دیتے وقت اہتمام کرنا چاہیے کہ دایاں ہاتھ استعمال کیا جائے اور اسی طرح تمام اہم اور پاکیزہ کام، جیسے کھانا، پینا، پہننا وغیرہ۔ سب دائیں ہاتھ سے کرنے چاہئیں۔ اگر کوئی شخص الٹے ہاتھ سے دے تو اسے بھی تنبیہ کرنی چاہیے۔ لیکن افسوس کہ لوگ شیطان کو راضی کرتے ہیں اور رحمان کی ناراضگی کی پروا نہیں کرتے۔ اعاذنا الله منه۔