الادب المفرد - حدیث 1156

كِتَابُ بَابُ إِذَا أَرْسَلَ رَجُلًا فِي حَاجَةٍ فَلَا يُخْبِرُهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: إِذَا أَرْسَلْتُكَ إِلَى رَجُلٍ، فَلَا تُخْبِرْهُ بِمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَيْهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُعِدُّ لَهُ كِذْبَةً عِنْدَ ذَلِكَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1156

کتاب جب کوئی آدمی کسی کو کسی دوسرے آدمی کو بلانے کے لیے بھیجے تو قاصد اسے تفصیل سے بتائے بغیر صرف بلا کر لائے سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:جب میں تمہیں کسی آدمی کے پاس بھیجوں کہ اسے بلا کر لاؤ تو یہ مت بتایا کرو کہ میں نے اسے کس لیے بلایا ہے کیونکہ اس طرح شیطان اسے (اس بات کے حوالے سے)جھوٹ تیار کر دے گا (اور وہ صحیح بات نہیں بتائے گا)۔
تشریح : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبداللہ بن زید بن اسلم راوی لین ہے لیکن ابن وہب اور ابن شیبہ کے ہاں اس کی متابعت موجود ہے اس لیے یہ موقوف اثر صحیح ثابت ہے۔
تخریج : ضعیف الإسناد موقوفا:أخرجه ابن وهب في الجامع:۶۲۔ وابن شبة في تاریخ المدینة:۲؍ ۷۵۲۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں عبداللہ بن زید بن اسلم راوی لین ہے لیکن ابن وہب اور ابن شیبہ کے ہاں اس کی متابعت موجود ہے اس لیے یہ موقوف اثر صحیح ثابت ہے۔