الادب المفرد - حدیث 1111

كِتَابُ بَابُ يُضْطَرُّ أَهْلُ الْكِتَابِ فِي الطَّرِيقِ إِلَى أَضْيَقِهَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي الطَّرِيقِ، فَلَا تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1111

کتاب اہل کتاب کو بہت تنگ راستے کی طرف مجبور کیا جائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم مشرکوں سے راستے میں ملو تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ تر راستے کی طرف مجبور کر دو۔‘‘
تشریح : مطلب یہ ہے کہ ان کی تکریم کی خاطر راستہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ان کے کافر ہونے کا احساس دلانا ضروری ہے۔ نیز یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ شاذ ہے اور محفوظ وہ الفاظ ہیں جو رقم ۱۱۰۳ میں گزرے ہیں۔
تخریج : شاذ بهذا السیاق في الشطر الأول۔ أخرجه أحمد:۷۵۶۷۔ وعبدالرزاق:۹۸۳۷۔ والطبراني في الاوسط:۶۳۵۸۔ والبیهقي في الشعب:۹۳۸۱۔ انظر الصحیحة:۷۰۴۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی تکریم کی خاطر راستہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ان کے کافر ہونے کا احساس دلانا ضروری ہے۔ نیز یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ شاذ ہے اور محفوظ وہ الفاظ ہیں جو رقم ۱۱۰۳ میں گزرے ہیں۔