الادب المفرد - حدیث 1097

كِتَابُ بَابُ مَا لَا يُسْتَأْذَنُ فِيهِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَعْيَنُ الْخُوَارِزْمِيُّ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ قَاعِدٌ فِي دِهْلِيزِهِ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ صَاحِبِي وَقَالَ: أَدْخُلُ؟ فَقَالَ أَنَسٌ: ادْخُلْ، هَذَا مَكَانٌ لَا يَسْتَأْذِنُ فِيهِ أَحَدٌ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا، فَأَكَلْنَا، فَجَاءَ بِعُسِّ نَبِيذٍ حُلْوٍ فَشَرِبَ، وَسَقَانَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1097

کتاب جہاں داخل ہونے کی اجازت لینا ضروری نہیں اعین خوارزمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ گھر کی چوکھٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ میرے ساتھی نے انہیں سلام کہا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:داخل ہو جاؤ، یہ ایسی جگہ ہے جہاں داخل ہونے کی کوئی اجازت نہیں لیتا۔ پھر انہوں نے ہمیں کھانا پیش کیا، پھر شیریں نبیذ کا ایک بڑا پیالہ لائے اور خود نوش کیا اور ہمیں بھی پلائی۔
تشریح : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
تخریج : ضعیف:أخرجه الطبراني في الکبیر:۱؍ ۲۴۶۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔