الادب المفرد - حدیث 1095

كِتَابُ بَابُ فَضْلِ مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيْبَةً قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ إِلَّا يُوجِبُهُ قَوْلُهُ: ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [النساء: 86]

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1095

کتاب اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہونے کی فضیلت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کہو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ پھر فرمایا:میری رائے میں ارشاد باری تعالیٰ:﴿وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِأحْسَنَ مِنْهَا أوْ رُدُّوهَا﴾ ’’جب تمہیں سلام کہا جائے تو اس سے احسن انداز میں یا اسی طرح ہی جواب دو۔‘‘ کے مطابق سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
تشریح : اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه ابن أبي حاتم في التفسیر:۱۴۸۹۵۔ والطبري في تفسیرہ:۱۹؍ ۲۲۵۔ اہل خانہ کو سلام کہنا باعث فضیلت امر ہے اور ان کا حق ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے اور سلام کا جواب دینا جس طرح دوسرے لوگوں پر واجب ہے اسی طرح اہل خانہ پر بھی ضروری ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں۔