الادب المفرد - حدیث 1053

كِتَابُ بَابُ أَكْلِ الرَّجُلِ مَعَ امْرَأَتِهِ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْسًا، فَمَرَّ عُمَرُ، فَدَعَاهُ فَأَكَلَ، فَأَصَابَتْ يَدُهُ إِصْبَعِي، فَقَالَ: حَسِّ، لَوْ أُطَاعُ فَيَكُنَّ مَا رَأَتْكُنَّ عَيْنٌ. فَنَزَلَ الْحِجَابُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1053

کتاب اپنی بیوی کے ساتھ کھانا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کا حلوہ کھا رہی تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا تو وہ بھی کھانے لگے۔ اس دوران ان کا ہاتھ میری انگلی سے مس ہوا تو انہوں نے فرمایا:اوہ، اگر تمہارے بارے میں میری رائے مانی جاتی تو تمہیں کوئی آنکھ بھی نہ دیکھتی۔ اس پر پردے کا حکم نازل ہوا۔
تشریح : بیوی اپنے خاوند کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحب اور باعث محبت و مودت ہے۔ تاہم نزول حجاب کے بعد اب غیر محرم کے ساتھ ایک ساتھ کھانا درست نہیں۔
تخریج : صحیح:السنن الکبریٰ للنسائي:۶؍ ۴۳۵، ح:۱۴۱۹۔ والطبراني في الاوسط:۲۹۴۷۔ انظر الصحیحة: ۳۱۴۸۔ بیوی اپنے خاوند کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ مستحب اور باعث محبت و مودت ہے۔ تاہم نزول حجاب کے بعد اب غیر محرم کے ساتھ ایک ساتھ کھانا درست نہیں۔