الادب المفرد - حدیث 1025

كِتَابُ بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الْأَمِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ فَمَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1025

کتاب امیر کو سلام کہنا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجاج کے پاس آیا تو میں نے اسے سلام نہیں کہا۔
تشریح : حجاج بن یوسف ظالم اور کئی صحابہ کا قاتل تھا اس وجہ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کہنا گوارا نہ کیا کیونکہ نافرمانوں کو سلام نہیں کہنا چاہیے خواہ وہ امیر ہو یا کوئی عام آدمی۔
تخریج : صحیح:المستدرك للحاکم:۳؍ ۶۵۳۔ حجاج بن یوسف ظالم اور کئی صحابہ کا قاتل تھا اس وجہ سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کہنا گوارا نہ کیا کیونکہ نافرمانوں کو سلام نہیں کہنا چاہیے خواہ وہ امیر ہو یا کوئی عام آدمی۔