الادب المفرد - حدیث 102

كِتَابُ بَابُ الْوَصَاةِ بِالْجَارِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 102

کتاب ہمسائے کے متعلق وصیت حضرت ابو شریح (خویلد بن عمرو)خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے سے حسن سلوک کرے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے، نیز جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا چپ رہے۔‘‘
تشریح : (۱)حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمسائے کے ساتھ بھلائی کرے۔ بھلائی اور احسان مندی یہ ہے کہ اگر وہ اچھا سلوک نہیں کرتا تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس کے دکھ درد میں شریک ہو اور اگر مالی معاونت کا محتاج ہے تو اس کے ساتھ مالی تعاون کرو، یعنی اسے ہر خیر پہچانے کی کوشش کرو اور ہر شر اس سے دور رکھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ مہمان کی تکریم کرے۔ تکریم یہ ہے کہ اسے خندہ پیشانی سے ملے، اسے وقت دے اور حسب استطاعت اس کے لیے اچھے کھانے کا بندوبست کرے۔ پہلے دن پر تکلف کھانا کھلائے، تین دن تک اچھی مہمان نوازی کرے، اس کے بعد اگر استطاعت ہے تو اس پر خرچ کرے وہ صدقہ ہوگا۔ ایک مسلمان کا دوسرے پر حق ہے کہ وہ اس کی مہمان نوازی کرے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو قانونی چارہ جوئی کرکے بھی اس سے یہ حق وصول کیا جاسکتا ہے۔ یورپ وغیرہ میں مہمان نوازی کا رواج نہیں ہے بلکہ وہ اپنا اپنا کھاؤ کے اصول پر کاربند ہیں۔ یہ ان کی دنیا پرستی اور حسن اخلاق سے عاری ہونے کی دلیل ہے۔ وہ اسے بوجھ سمجھتے ہیں جبکہ اسلام میں یہ ایک سعادت ہے اور مہمان پر خرچ کی گئی رقم کا عنداللہ اجر ہے۔ اسلامی تعلیمات تو یہاں تک ہیں کہ خود بھوکے سو جاؤ لیکن مہمان کی مہمان نوازی ضرور کرو۔ اور یہ صرف مسلمان ہی کرسکتا ہے۔ مہمان کے لیے جاننے والے اور نہ جاننے والے کا فرق غیر مناسب ہے، تاہم مہمانوں کے حسب مراتب ان کی مہمان نوازی میں فرق ملحوظ رکھا جاسکتا ہے۔ مہمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ میزبان کا خیال رکھے اور جو کچھ اسے پیش کیا جائے صبر وشکر سے کھالے۔ بے جا مطالبات کرکے میزبان کو مشکل میں نہ ڈالے۔ اور نہ اس کے ہاں اتنا قیام ہی کرے کہ وہ اکتا جائے۔ زبان جسم کا وہ حصہ ہے کہ جس پر کنٹرول کرنے والے کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔ اور اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو جہنم میں اوندھے منہ گرا دیتی ہے۔ اسی زبان سے نکلا ہوا ایک کلمہ جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے اور اسی زبان سے نکلی خیر کی بات دخول جنت کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو نہایت سوچ سمجھ کر بولنے کا حکم ہے۔ اگر کلمہ خیر کہنے کی توفیق نہیں ہے تو خاموش رہنا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ (۲) حدیث میں اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان کا ذکر کیا اور ایمان کے دیگر لوازمات کو نظر انداز کر دیا۔ اس کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس میں ابتدا اور انتہا دونوں کا ذکر کر دیا، یعنی جو شخص اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے، اس نے اسے پیدا کیا ہے اور وہ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اسے یہ کام کرنے چاہئیں۔ (فتح الباري:۱؍۴۴۶) (۳) صمت، سکوت سے زیادہ بلیغ ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ قدرت اور طاقت کے باوجود خاموشی اختیار کرنا۔ یعنی اہل ایمان کو قوت گویائی کے باوجود کلمہ خیر کے علاوہ خاموش رہنا چاہیے اور لا یعنی گفتگو سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (شرح صحیح الادب المفرد، حسین بن عودة:۱؍۱۳۱) (۴) پڑوسی سے حسن سلوک، مہمان کی تکریم اور کلمہ خیر کے علاوہ خاموشی کو ایمان باللہ اور روز آخرت پر ایمان کے ساتھ مربوط کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان امور کا خیال نہیں رکھتا تو اسے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے اس میں خرابی ہے۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اعمال صالحہ سے ایمان بڑھتا اور معصیت و نافرمانی سے ایمان کم ہوتا ہے۔ (۵) کسی شخص پر اس کے ایمان اور اسلام کے بارے میں حکم ظاہری اعمال کے ذریعے لگایا جائے گا، باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔ ظاہر اعمال اسلام کے مطابق ہیں تو اسے نیک تصور کیا جائے اور اگر ظاہر اعمال خلاف شرع ہیں تو اسے بد تصور کیا جائے گا۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، الرقاق، باب حفظ اللسان:۶۴۷۶، ۶۰۱۹۔ ومسلم:۴۸۔ وأبي داود:۳۷۴۸۔ والترمذي:۱۹۶۷۔ وابن ماجة:۳۶۷۲۔ الارواء:۲۵۲۵۔ (۱)حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمسائے کے ساتھ بھلائی کرے۔ بھلائی اور احسان مندی یہ ہے کہ اگر وہ اچھا سلوک نہیں کرتا تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس کے دکھ درد میں شریک ہو اور اگر مالی معاونت کا محتاج ہے تو اس کے ساتھ مالی تعاون کرو، یعنی اسے ہر خیر پہچانے کی کوشش کرو اور ہر شر اس سے دور رکھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ مہمان کی تکریم کرے۔ تکریم یہ ہے کہ اسے خندہ پیشانی سے ملے، اسے وقت دے اور حسب استطاعت اس کے لیے اچھے کھانے کا بندوبست کرے۔ پہلے دن پر تکلف کھانا کھلائے، تین دن تک اچھی مہمان نوازی کرے، اس کے بعد اگر استطاعت ہے تو اس پر خرچ کرے وہ صدقہ ہوگا۔ ایک مسلمان کا دوسرے پر حق ہے کہ وہ اس کی مہمان نوازی کرے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو قانونی چارہ جوئی کرکے بھی اس سے یہ حق وصول کیا جاسکتا ہے۔ یورپ وغیرہ میں مہمان نوازی کا رواج نہیں ہے بلکہ وہ اپنا اپنا کھاؤ کے اصول پر کاربند ہیں۔ یہ ان کی دنیا پرستی اور حسن اخلاق سے عاری ہونے کی دلیل ہے۔ وہ اسے بوجھ سمجھتے ہیں جبکہ اسلام میں یہ ایک سعادت ہے اور مہمان پر خرچ کی گئی رقم کا عنداللہ اجر ہے۔ اسلامی تعلیمات تو یہاں تک ہیں کہ خود بھوکے سو جاؤ لیکن مہمان کی مہمان نوازی ضرور کرو۔ اور یہ صرف مسلمان ہی کرسکتا ہے۔ مہمان کے لیے جاننے والے اور نہ جاننے والے کا فرق غیر مناسب ہے، تاہم مہمانوں کے حسب مراتب ان کی مہمان نوازی میں فرق ملحوظ رکھا جاسکتا ہے۔ مہمان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ میزبان کا خیال رکھے اور جو کچھ اسے پیش کیا جائے صبر وشکر سے کھالے۔ بے جا مطالبات کرکے میزبان کو مشکل میں نہ ڈالے۔ اور نہ اس کے ہاں اتنا قیام ہی کرے کہ وہ اکتا جائے۔ زبان جسم کا وہ حصہ ہے کہ جس پر کنٹرول کرنے والے کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔ اور اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو جہنم میں اوندھے منہ گرا دیتی ہے۔ اسی زبان سے نکلا ہوا ایک کلمہ جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے اور اسی زبان سے نکلی خیر کی بات دخول جنت کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو نہایت سوچ سمجھ کر بولنے کا حکم ہے۔ اگر کلمہ خیر کہنے کی توفیق نہیں ہے تو خاموش رہنا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ (۲) حدیث میں اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان کا ذکر کیا اور ایمان کے دیگر لوازمات کو نظر انداز کر دیا۔ اس کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس میں ابتدا اور انتہا دونوں کا ذکر کر دیا، یعنی جو شخص اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے، اس نے اسے پیدا کیا ہے اور وہ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اسے یہ کام کرنے چاہئیں۔ (فتح الباري:۱؍۴۴۶) (۳) صمت، سکوت سے زیادہ بلیغ ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ قدرت اور طاقت کے باوجود خاموشی اختیار کرنا۔ یعنی اہل ایمان کو قوت گویائی کے باوجود کلمہ خیر کے علاوہ خاموش رہنا چاہیے اور لا یعنی گفتگو سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (شرح صحیح الادب المفرد، حسین بن عودة:۱؍۱۳۱) (۴) پڑوسی سے حسن سلوک، مہمان کی تکریم اور کلمہ خیر کے علاوہ خاموشی کو ایمان باللہ اور روز آخرت پر ایمان کے ساتھ مربوط کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان امور کا خیال نہیں رکھتا تو اسے اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے اس میں خرابی ہے۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اعمال صالحہ سے ایمان بڑھتا اور معصیت و نافرمانی سے ایمان کم ہوتا ہے۔ (۵) کسی شخص پر اس کے ایمان اور اسلام کے بارے میں حکم ظاہری اعمال کے ذریعے لگایا جائے گا، باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔ ظاہر اعمال اسلام کے مطابق ہیں تو اسے نیک تصور کیا جائے اور اگر ظاہر اعمال خلاف شرع ہیں تو اسے بد تصور کیا جائے گا۔