الادب المفرد - حدیث 1013

كِتَابُ بَابُ التَّسْلِيمِ بِالْمَعْرِفَةِ وَغَيْرِهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ((تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتُقْرِئُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1013

کتاب جاننے اور نہ جاننے والے کو سلام کہنا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا:اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کھانا کھلاؤ اور جان پہچان والے اور اجنبی ہر ایک کو سلام کہو۔‘‘
تشریح : (۱)بہترین اسلام سے مراد ہے کہ اسلام میں کون سی عادتیں اور خوبیاں اچھی ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ کون سے مسلمان اچھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کن خوبیوں کو اپنا کر انسان اچھا مسلمان بن سکتا ہے؟ (۲) کبھی کسی دوسری چیز کو بہترین اسلام قرار دیا تو یہ تضاد نہیں مختلف لوگوں اور حالات کے اعتبار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ (۳) یہ حکم اگرچہ عام ہے لیکن کافر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ انہیں سلام میں پہل کرنے سے روکا گیا ہے۔ ایک روایت میں خاص لوگوں کو سلام کہنا قیامت کی نشانی بتایا گیا ہے۔
تخریج : صحیح:صحیح البخاري، الإیمان، ح:۱۲۔ (۱)بہترین اسلام سے مراد ہے کہ اسلام میں کون سی عادتیں اور خوبیاں اچھی ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ کون سے مسلمان اچھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کن خوبیوں کو اپنا کر انسان اچھا مسلمان بن سکتا ہے؟ (۲) کبھی کسی دوسری چیز کو بہترین اسلام قرار دیا تو یہ تضاد نہیں مختلف لوگوں اور حالات کے اعتبار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ (۳) یہ حکم اگرچہ عام ہے لیکن کافر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ انہیں سلام میں پہل کرنے سے روکا گیا ہے۔ ایک روایت میں خاص لوگوں کو سلام کہنا قیامت کی نشانی بتایا گیا ہے۔