الادب المفرد - حدیث 1006

كِتَابُ بَابُ مَنْ خَرَجَ يُسَلِّمُ وَيُسَلَّمُ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَهُ إِلَى السُّوقِ، قَالَ: فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَى السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى سَقَّاطٍ، وَلَا صَاحِبِ بَيْعَةٍ، وَلَا مِسْكِينٍ، وَلَا أَحَدٍ إِلَّا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ. قَالَ الطُّفَيْلُ: فَجِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا، فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَى السُّوقِ، فَقُلْتُ: مَا تَصْنَعُ بِالسُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَى الْبَيْعِ، وَلَا تَسْأَلُ عَنِ السِّلَعِ، وَلَا تَسُومُ بِهَا، وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ؟ فَاجْلِسْ بِنَا هَاهُنَا نَتَحَدَّثُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَبَا بَطْنٍ، وَكَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ، إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ، نُسَلِّمُ عَلَى مَنْ لَقِيَنَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1006

کتاب جو گھر سے اس لیے نکلے کہ وہ لوگوں کو سلام کہے اور لوگ اسے سلام کہیں طفیل بن ابی بن کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آتے تو وہ صبح صبح انہیں لے کر بازار جاتے۔ جب ہم بازار جاتے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جس کباڑیے، تاجر، مسکین یا کسی بھی فرد کے پاس سے گزرتے تو اسے سلام کہتے۔ طفیل کہتے ہیں کہ میں ایک روز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو مجھے بازار چلنے کے لیے کہا۔ میں نے عرض کیا:آپ بازار جاکر کیا کریں گے جبکہ نہ آپ کسی خرید و فروخت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، نہ کسی سامان کا بھاؤ پوچھتے ہیں، نہ کوئی سودا طے کرتے ہیں اور نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں؟ یہی ہمارے ساتھ تشریف رکھیں۔ ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:اے ابو بطن! (طفیل رحمہ اللہ کا پیٹ ذرا بڑا تھا)ہم بازار اس لیے جاتے ہیں تاکہ جو ہمیں ملے ہم سے سلام کہیں۔
تشریح : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روئے زمین پر ناپسندیدہ جگہ بازار کو قرار دیا ہے لیکن سلام کرنے کے لیے بازار جانا بھی مستحسن امر ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سلام کو عام کرنے اور حصول ثواب کے لیے بازار جاتے تھے جبکہ لوگ دنیاوی خرید و فروخت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ اپنی اپنی ترجیح کی بات ہے۔
تخریج : صحیح:شعب الایمان للبیهقي، حدیث:۸۷۹۰۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روئے زمین پر ناپسندیدہ جگہ بازار کو قرار دیا ہے لیکن سلام کرنے کے لیے بازار جانا بھی مستحسن امر ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سلام کو عام کرنے اور حصول ثواب کے لیے بازار جاتے تھے جبکہ لوگ دنیاوی خرید و فروخت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ اپنی اپنی ترجیح کی بات ہے۔