Book - حدیث 982

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بَعْدَ التَّشَهُّدِ ضعیف حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ يَسَارٍ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ عَنِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: > مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى - إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ - فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ترجمہ Book - حدیث 982

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: تشہد کے بعد نبی ﷺ کے لیے صلاۃ ( درود) کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جس کا جی چاہتا ہے کہ اسے اس کی میزان خوب بھری ہوئی ملے تو چاہیئے کہ جب ہم اہل بیت پر صلاۃ ( درود ) پڑھے تو یوں کہا کرے «اللهم صل على محمد النبي وأزواجه أمهات المؤمنين وذريته وأهل بيته ك صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ۔ “ 1۔صلواۃ کے معنی شروع باب میں زکر ہوچکے ہیں۔2۔آل در اصل بمعنی شخص ہے۔اوراس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جس کو دوسرے کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق ہو۔اور یہ لفظ ہمیشہ صاحب شرف اور افضل ہستی کی طرف مضاف ہوکراستعمال ہوتاہے۔ آل نبی سے مراد آپ ﷺ کے ر شتہ دار ہیں۔ اور بعض کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھیں علم معرفت کے لہاٖظ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تعلق ہو۔اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اہل دین دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو کہ علم کے اعتبار سے راسخ اور محکم ہوتے ہیں۔ ان کو آل نبی ۔اور امتہ بھی کہ سکتے ہیں۔اوردوسرے جن کا علم وعمل سرسری سا اور تقلیدی ساہوتا ہے۔ ان کو امت محمد کہہ سکتے ہیں آل محمد ﷺنہیں کہہ سکتے۔اس طرح امت اور آل میں عموم خصوص کی نسبت ہے۔یعنی ہر آل نبی آپ کی امت میں داخل ہے۔مگرہرامتی آل نبی ﷺ نہیں تفصیل کےلئے دیکھیں۔(مفردات راغب اصفہانی)احادیث صحیحہ اور درود کے مختلف صیغوں سے ثابت ہوتا ہے۔ کے نبی ﷺکے اہل بیت اور آل میں آل علی آل جعفر آل عقیل آل عباس۔اذواج مطہرات اور آپﷺ کی تمام اولاد شامل ہیں۔3۔(کما صلیت) میں معروف تشبیہ نہیں کہ ادنیٰ کو اعلیٰ کے مشابہ کہا گیا ہو بلکہ اس میں ایک غیرمشہور امر کومشہور ومعروف کے ساتھ ملحق کر کے اذہان کے قریب کیا گیا ہے۔جیسے کہ اللہ کے نور کو چراغ کے نورسے مشابہت دی گئی ہے۔( اللَّـهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ)(النور 35) چونکہ ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم ؑ کی عظمت اور ان پر صلاۃ تمام طبقات میں مشہور معروف تھی۔ تو محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی اسی اندازسے صلاۃ کی عا تعلیم دی گئی۔اس میں مقدار کامفہوم شامل نہیں۔ایک مفہوم یہ بھی ہے۔کہ چونکہ سیدناابراہیم ؑ کی آل میں انبیاء ورسل کثیر تعداد میں ہیں۔اور ان میں خود رسول اللہ ﷺ بھی ہیں۔تو ان سب کے لئے جس قدر صلاۃ نازل کی گئی ہے۔اس عظیم مقدار کی صلاۃ صرف محمد رسول اللہ ﷺ اور آپﷺکی آل کے لئے طلب کی جارہی ہے۔واللہ اعلم۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔(مرعاۃ المفاتحیح ۔شرح مشکواۃ المصابیح باب الصلواۃ علی النبی حدیث 924)