Book - حدیث 934

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ التَّأْمِينِ وَرَاءَ الْإِمَامِ ضعیف حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَلَا: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ}[الفاتحة: 7], قَالَ: آمِينَ ، حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الْأَوَّلِ.

ترجمہ Book - حدیث 934

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: امام کے پیچھے آمین کہنا سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھتے تو «آمين» کہتے حتیٰ کہ صف اول کے لوگ جو آپ ﷺ سے قریب ہوتے آپ ﷺ کی آواز سن لیتے ۔ امام دارقطنی اور امام بہقی نے اس حدیث کو حسن اور امام حاکم نے صحیح علی شرطھا (بخاری ومسلم) کہا ہے۔ان احادیث سے استدلال یوں ہے کہ مقتدی امام کی اتباع کا پا بند ہے اور نبی کریم ﷺ کا حکم ہے۔کہ (صلوا كما رايتموني اصلي) تم نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری ۔حدیث 631)جب آپﷺ نے امام ہوتے ہوئے آمین کہی۔تو مقتدی کے لئے بھی ثابت ہوگئی۔(عن المعبود) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت دلیل ہے۔کہ آمین چیخ کر نہ کہی جائے۔بلکہ درمیانی آواز سے کہی جائے۔جس میں عجزو فروتنی کا اظہار ہو۔چیخ کر آمین کہنا۔عجزونیاز کے منافی ہے۔اس لئے ایسا کرنا صحیح نہیں اس طرح بغیر آواز نکالے دل میں آمین کہنا بھی خلاف سنت ہے۔