Book - حدیث 930

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ فِي الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ح، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ! فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ! مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟! فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي! فَقَالَ عُثْمَانُ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي, لَكِنِّي سَكَتُّ! قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -بِأَبِي وَأُمِّي-, مَا ضَرَبَنِي، وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ: >إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا, إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ<. أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ؟ قَالَ: >فَلَا تَأْتِهِمْ<، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ؟ قَالَ: >ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ, فَلَا يَصُدُّهُمْ<، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ؟ قَالَ: >كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ<، قَالَ: قُلْتُ: جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، إِذِ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً، فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ, آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَاكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَيْنَ اللَّهُ؟. قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ! قَالَ: مَنْ أَنَا؟، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ! قَالَ: أَعْتِقْهَا, فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

ترجمہ Book - حدیث 930

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: نماز میں چھینک کا جواب دینا سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور قوم میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہا «يرحمك الله» ” اللہ تم پر رحم فرمائے ۔“ اس پر لوگوں نے مجھے تیز نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا : افسوس میری ماں کا مجھے گم کرنا ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو ؟ ( اس پر ) ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے شروع کر دیے ، تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں ۔ ( استاد ) عثمان نے بیان کیا کہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ یہ لوگ مجھے خاموش کرا رہے ہیں ( تو مجھے غصہ تو آیا ) مگر میں خاموش رہا ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ لی ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ نے مجھے مارا نہ ڈانٹا ، نہ سخت سست کہا ، بلکہ فرمایا ” یہ نماز ہے ، اس میں لوگوں کی سی عام بات چیت جائز نہیں ہے ۔ اس میں تسبیح ہوتی ہے ، تکبیر ہوتی ہے اور قرآن مجید پڑھا جاتا ہے ۔“ رسول اللہ ﷺ نے اسی قسم کہ بات فرمائی ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ نئے نئے جاہلیت سے باہر آئے ہیں اور اللہ نے ہمیں اسلام ( کی نعمت ) سے نوازا ہے ۔ تو ہم میں کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تم ان کے پاس نہ جایا کرو ۔ میں نے عرض کیا : ہم میں کچھ لوگ ( پرندوں وغیرہ سے ) بدفالی لیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ” یہ ان کے دلوں کے اوہام ہیں ۔ یہ چیزیں ان کے لیے رکاوٹ نہیں بننی چاہییں ۔“ میں نے عرض کیا : ہم میں کچھ لوگ ہیں جو لکیریں کھینچتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچا کرتے تھے ، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہوں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں ۔ “ ( لیکن اب یہ جاننا مشکل ہے ۔ ) میں نے کہا : میری ایک لونڈی ہے جو احد اور جوانیہ کی اطراف میں میری کچھ بکریاں چرایا کرتی تھی ۔ میں نے ایک بار اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے اور میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں ، جس طرح انہیں افسوس ہوتا ہے مجھے بھی ہوا تو میں نے اسے تھپڑ دے مارا ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو میرے لیے بڑا بھاری اور برا عمل جانا ۔ میں نے کہا : کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے میرے پاس لاؤ ۔“ چنانچہ میں اسے آپ ﷺ کی خدمت میں لے آیا ۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ” اللہ کہاں ہے ؟“ اس نے کہا : آسمان میں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” میں کون ہوں؟“ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کو آزاد کر دو بلاشبہ یہ مومنہ ہے ۔“