Book - حدیث 91

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ صحيح إلا جملة الدعوة حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ قَالَ وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ وَلَا يَخْتَصُّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ

ترجمہ Book - حدیث 91

کتاب: طہارت کے مسائل باب: پیشاب پاخانہ کی حاجت ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز پڑھے ، حتیٰ کہ فارغ ہو جائے ۔ “ پھر جناب ثور نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا ۔ اور کہا کہ ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ) ” جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے حلال نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی قوم کی امامت کرائے اور نہ اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے ہی لیے دعا کرے ۔ اگر ایسا کرے تو ان سے خیانت کی ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ سند اہل شام کی اسانید میں سے ہے ، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ( سوائے سیدنا ابوہریرہ ؓ کے ) ۔ فائدہ:یہ روایت بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف ہے۔ اس میں بھی دو باتوں کی ممانعت تو دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ جیسے پیشاب پاخانہ روک کر نماز پڑھنا اور بغیر اجازت کسی قوم کی امامت کرانا،یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں ۔لیکن یہ تیسری بات کہ امام صرف اپنے لیے ہی دعا نہ کرے، صحیح نہیں۔ اس لیے کہ متعدد دعاؤں میں نماز میں واحد ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔