Book - حدیث 906

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ كَرَاهِيَةِ الْوَسْوَسَةِ وَحَدِيثِ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

ترجمہ Book - حدیث 906

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: نماز کے دوران میں وسوسے اور خیالات کی کراہت ۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو کوئی وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھے اور وہ اپنے دل اور چہرے سے ان ہی پر متوجہ رہے ، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ “ وضو وہی اچھا ہوسکتاہے۔جوسنت نبوی ﷺ کے مطابق ہو اعضاء کا مل دھو جایئں۔پانی کا ضیاع نہ ہوا اورشروع میں بسم اللہ اور آخر میں دعا بھی پڑھے۔2۔دل کے خیالات اور وسوسوں سے بچنے کی ظاہری صورت یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔اپنی نظر اور چہرے کو سجدے کی جگہ پر مرکوز رکھے۔اور معنوی اعتبارسے آیات واذکار کے معانی ومفاہیم پرغور کرے۔ اور ا س طرح عبادت کرے گویا اللہ دیکھ رہاہے۔یا یہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔اور سمجھے کہ شائد میری یہ آخری نمازہے۔علاوہ ازیں علمائے صالحین کی صحبت اور کتب احادیث میں زہد اور رقاق کے ابواب کا بکثرت مطالعہ انسان کے لئے حسن عبادت کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہ ماثور دعا اپنا معمول بنائے۔(اللهم اعني علي ذكرك وشكرك وحسن عبادتك (سنن ابودائود حدیث 1522) اے اللہ اپنا زکر کرنے شکرکرنے اور بہترین عبادت کرنے میں میری مدد فرما