Book - حدیث 88

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَمَعَهُ النَّاسُ وَهُوَ يَؤُمُّهُمْ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَقَامَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ لِيَتَقَدَّمْ أَحَدُكُمْ وَذَهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ الْخَلَاءَ وَقَامَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ وَأَبُو ضَمْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْأَكْثَرُ الَّذِينَ رَوَوْهُ عَنْ هِشَامٍ قَالُوا كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ

ترجمہ Book - حدیث 88

کتاب: طہارت کے مسائل باب: پیشاب پاخانہ کی حاجت ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج یا عمرے کے لیے نکلے ۔ ان کی معیت میں کچھ لوگ بھی تھے اور وہ ان کے امام تھے ۔ ایک دن نماز فجر کی اقامت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ تم میں سے کوئی آگے ہو ۔ ( اور نماز پڑھائے ) اور خود قضائے حاجت کے لیے چل دیے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے ” جب تم میں سے کسی کو بیت الخلاء جانے کی حاجت ہو اور نماز بھی کھڑی ہو رہی ہو تو چاہیئے کہ وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ وہیب بن خالد ، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرہ نے یہ حدیث «هشام بن عروة عن أبيه عن رجل حدثه عن عبد الله بن أرقم» کی سند سے روایت کی ہے ( یعنی اس میں «عن رجل» کا اضافہ ہے ) مگر ہشام کے اکثر شاگرد اسی طرح روایت کرتے ہیں جیسے کہ ( مذکورہ الصدر روایت میں ) زہیر نے ( «عن رجل» کے واسطے کے بغیر ) روایت کیا ہے ۔ فوائد و مسائل: (1)نماز کی قبولیت میں خشوع و خضوع انتہائی بنیادی امر ہے۔ اس کے لیے پوری پوری محنت اور کوشش کرنی چاہیے اورہر اس حالت سے بچنا چاہیے، جواس میں خلل انداز ہوسکتی ہو۔ لہذا بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہوتو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے۔(2)ایسے ہی کھانے کا مسئلہ ہے جب کھانا تیار ہو اور بھوک بھی ہو تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے۔ جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے ۔(3)لمبے سفروں میں مسنون یہ ہے کہ اجتماعیت قائم رکھی جائے۔ ایک شخص کو اپنا امیر سفر بنالیا جائے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن ارقم﷜ کے بارے میں اوپر بیان ہوا ہے۔