Book - حدیث 84

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيذِ ضعیف حَدَّثَنَا هَنَّادٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَا فِي إِدَاوَتِكَ قَالَ نَبِيذٌ قَالَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ قَالَ أَبُو دَاوُد و قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَوْ زَيْدٍ كَذَا قَالَ شَرِيكٌ وَلَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ لَيْلَةَ الْجِنِّ

ترجمہ Book - حدیث 84

کتاب: طہارت کے مسائل باب: کھجور اور منقی کے شربت (نبیذ) سے وضو کرنا...؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے جنوں والی رات پوچھا کہ ” تمہارے برتن میں کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نبیذ ( یعنی کھجور کا شربت ) ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کھجور پاکیزہ پھل ہے اور پانی پاک ہے ۔ “ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ شریک کو وہم ہوا اور انہوں نے ابوزید یا زید کہا ۔ ( جبکہ ہناد کو وہم نہیں ہوا ، اس نے ابوزید ہی کہا ۔ ) ایسے ہی ہناد کی روایت میں «ليلة الجن» کا ذکر نہیں ہے ( اور سلیمان کی روایت میں موجود ہے ) ۔ وضاحت: یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کا راوی ابو زید مجہول ہے۔ اس لیے یہ قابل عمل نہیں۔ نیز درج ذیل صحیح حدیث اس کی توضیح کر رہی ہے۔