Book - حدیث 826

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ إِذَا لَمْ يَجْهَرْ الْإِمَامُ بِقِرَاءَتِهِ صحیح حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنْ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ

ترجمہ Book - حدیث 826

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: ان حضرات کے دلائل جو سری نمازوں میں قرآت کے قائل ہیں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے پھرے ، جس میں آپ ﷺ نے جہری قرآت کی تھی اور فرمایا ” کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے ؟ “ ایک آدمی نے کہا ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا ” میں بھی کہہ رہا تھا مجھے کیا ہوا کہ قرآت قرآن میں الجھ رہا ہوں ۔ “ راوی نے کہا پس لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھنے سے رک گئے ان نمازوں میں جن میں آپ ﷺ جہر کر رہے ہوتے جبکہ انہوں نے آپ سے یہ فرمان سنا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں ابن اکمیہ کی یہ روایت معمر ، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کی ہے ۔ امام جب سری قراءت کررہا ہو تو مقتدی بھی قراءت کریں۔سورۃ فاتحہ اور مذید بھی پڑھیں۔2۔یہ استدلال کہ امام جہری قراءت کرے۔اور مقتدی فاتحہ بھی نہ پڑھے۔ہرگز راحج نہیں ہے۔امام ابو دائود نے اگلی روایت سے ثابت کیا ہے۔کہ(فانتهي الناس عن القراة)جناب زہری کا مقولہ ہے نہ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ۔لہذا مدرج ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ٹھرا۔