Book - حدیث 789

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ

ترجمہ Book - حدیث 789

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: کسی عارض کی وجہ سے نماز کو ہلکا ( مختصر ) کر دینا جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد ( سیدنا ابوقتادہ ؓ ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ اسے لمبا کروں گا مگر میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو اسے مختصر کر دیتا ہوں تاکہ اس کی ماں بے چین نہ ہو ۔ “ نماز کو طویل کر کے خشوع وخضوع سے پڑھنا مستحب ہے مگر امام کے لئے شرط ہے کہ اپنے مقتدیوں میں سے کمزور افراد کا خیال رکھے۔2۔نماز میں کسی مستحب عمل کی نیت کر کے اسے پورا کرنا لازمی نہں ہے۔نیت میں اسی طرح کی تبدیلی جائز ہے۔ مثلا کسی نے قیام لمباکرنے کی نیت کی تو اسے مختصر کردیا۔ کھڑے ہوکرنفل پڑھنے کی نیت کی تو ضروری نہیں کی تو ضروری نہیں کے کھڑے ہوکر مکمل کرے۔بیٹھ کر بھی مکمل کرسکتا ہے۔3۔عورتیں بھی جماعت میں شامل ہوں تو بہتر ہے۔اور چھوٹے بچوں کو بھی مسجد میں لایا جاسکتاہے۔4۔نماز کو ہلکا کرنے سے مراد یہ ہے کہ قراءت مختصر اور دیگر اذکار کو مناسب حد تک کم کردیا جائے نہ کہ ارکان نماز کو جلدی جلدی ادا کیا جائے۔