Book - حدیث 788

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ مَنْ جَهَرَ بِهَا صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنَزَّلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ

ترجمہ Book - حدیث 788

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: بسم الله جہری پڑھنے والوں کے دلائل سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سورتوں کا فرق نہ پہچانتے تھے حتیٰ کہ « بسم الله الرحمن الرحيم » نازل کی جاتی ۔ یہ ابن سرح کے الفاظ ہیں ۔ اس مسئلہ میں کہ بسم اللہ جہراً پڑھا جائے۔یا سر علامہ ابن القیم کی بات معتدل ہے۔کہ نبی کریم ﷺ اسے کبھی جہرا ً پڑھتے تھے۔اور کبھی سراً مگر آپ کا اس کو سراً پڑھناس زیادہ ثابت ہے۔یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسے روزانہ پانچ اوقات میں نیز سفر وحضر میں بھی جہرا ً پڑھتے رہے ہوں۔اور آپ کا یہ عمل خلفاء راشدین اور دیگرصحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین پر مخفی رہا ہو۔ اور پھر آپ کے اہل شہر خیر قرون میں بھی اس سے بے خبر رہیں۔ یہ اذ حد محال بات ہے۔چہ جائے کہ بسم اللہ کے جہرا کو ثابت کرنے کےلئے مجمل الفاظ اور کمزوراحادیث کا سہارا لیا جائے۔اس بارے میں صحیح احادیث غیرصریح اور جو صریح ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔(ذاد المعاد فصل فی ہدیہ ﷺ فی الصلواۃ) مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے۔(نیل الاوطار وسبل السلام )شیخ البانی کا موقف بھی بسم اللہ سری پڑھنے کا ہے۔دیکھئے۔(صفۃ الصلواۃ النبی ﷺ ص 96)اور یہی راحج ہے۔ کت