Book - حدیث 771

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةُ مِنَ الدُّعَاءِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنَا طَاوُسٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي التَّهَجُّدِ يَقُولُ بَعْدَ مَا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ

ترجمہ Book - حدیث 771

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: نماز شروع کرتے ہوئے کون سی دعا پڑھی جائے ؟ سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہرسول اللہ ﷺ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یوں کہتے : «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق وقولك الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي قدمت وأخرت وأسررت وأعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! تیری ہی تعریف ہے ۔ تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ تیری ہی تعریف ہے کہ تو آسمانوں اور زمین کی تدبیر کرنے والا ہے ۔ تیری ہی تعریف ہے کہ تو آسمانوں ، زمیں اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے ۔ تو حق ہے ۔ تیرا فرمان حق ہے ۔ تیرا وعدہ حق ہے ، تجھ سے ملاقات برحق ہے ۔ جنت برحق ہے ۔ دوزخ برحق ہے ۔ قیامت برحق ہے ۔ اے اللہ ! میں تیرا مطیع فرمان ہوں ۔ تجھ پر ایمان لایا ہوں ۔ میرا اعتماد تجھی پر ہے ۔ میں تیری طرف رجوع کرنے والا ہوں ۔ ( مخالفین حق سے ) تیری ہی مدد سے جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی کو اپنا فیصل بناتا ہوں ۔ تو میرے سب گناہ معاف فر دے ، جو میں نے پہلے کیے ، بعد میں کیے ، چھپ کے کیے اور ظاہراً کیے ۔ تو ہی میرا معبود ہے ۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ “ تمام ہی نمازوں میں ثناءکے موقع پر اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے۔بالخصوص تہجد میں اس دعا میں نبی کریم ﷺ نے جس انداز سے اظہار عبودیت کیا ہے وہ آپ ہی کا مقام ہے۔ان میں ایمان اسلام اور احسان کا خلاصہ آگیا ہے۔