Book - حدیث 727

کِتَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ شَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ

ترجمہ Book - حدیث 727

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: نماز میں رفع الیدین کا بیان(یعنی دونوں ہاتھوں کا اٹھانا) جناب عاصم بن کلیب نے اسی سند سے اس کا ہم معنی بیان کیا اور اس میں ( تفصیل سے ) کہا کہ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا یوں کہ وہ پہنچے اور کلائی پر بھی آ گیا- اس روایت میں مزید کہا کہ میں اس کے بعد سخت سردی کے موسم میں بھی آپ کے ہاں آیا ۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ بہت کپڑے اوڑھے ہوئے تھے- ان کے ہاتھ ( رفع یدین کرتے ہوئے ) کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے ۔ (1) حضرت وائل بن حجر سن 9 ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں ۔یہ اگلے سال سردی کےموسم میں دربارہ تشریف لا ئے ۔ یہ نبی ﷺ کی زندگی کا آخری جاڑ ا تھا اوراس موقع پربھی نبی ﷺ اور صحابہ کرام کورفع الیدین کرتے دیکھا ۔ (2) قیام میں ہاتھ باندھنے کی کیفیت میں ہاتھ کےاوپر ہاتھ رکھنا یا اسے پگڑلینا دونوں جائز ہیں۔