Book - حدیث 700

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّتْرَةِ بَابُ مَا يُؤْمَرُ الْمُصَلِّي أَنْ يَدْرَأَ عَنِ الْمَمَرِّ بَيْنَ يَدَيْهِ صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ قَالَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ أُحَدِّثُكَ عَمَّا رَأَيْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ دَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَمُرُّ الرَّجُلُ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأَنَا أُصَلِّي فَأَمْنَعُهُ وَيَمُرُّ الضَّعِيفُ فَلَا أَمْنَعُهُ

ترجمہ Book - حدیث 700

کتاب: سترے کے احکام ومسائل باب: نمازی کو یہ حکم کہ اپنے آگے سے گزرنے والے کو روکے جناب ابوصالح نے کہا میں نے سیدنا ابوسعید ؓ سے جو دیکھا سنا ہے تمہیں بتاتا ہوں ۔ ابوسعید ؓ مروان کے پاس گئے اور بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فر رہے تھے ” جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو ، جو اس کے لیے لوگوں سے سترہ ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اس کے سینے کے آگے ہاتھ کر کے اسے روک دے ۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے ، بلاشبہ وہ شیطان ہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ نے بیان کیا کہ سفیان ثوری نے کہا : ایک آدمی تکبر کرتے ہوئے میرے آگے سے نماز کی حالت میں گزرتا ہے تو میں اسے روک لیتا ہوں اور کبھی کوئی ضعیف انسان ہوتا ہے تو اسے منع نہیں کرتا۔ لڑائی کرنےکامطلب ،ہاتھ کےذریعے سےگزرنے والے کوزور سےروکنا ہے۔ حضرت سفیان ثوری � ایک تابعی ہیں، یہ ان کاعمل ہے، اس عمل کی ان کےنزدیک کیاوجہ تھی ؟ وہ انہوں نے بیان نہیں کی ۔اس لیے حدیث کورُو سےہرگزرنے والے کوہاتھ کےذریعے سےروکنا چاہیے ، چاہے کوئی تکبر سے گزرنے والا ہویا وہ ضعیف ہو۔