Book - حدیث 693

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّتْرَةِ بَابُ إِذَا صَلَّى إِلَى سَارِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا أَيْنَ يَجْعَلُهَا مِنْهُ ضعیف حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا

ترجمہ Book - حدیث 693

کتاب: سترے کے احکام ومسائل باب: کسی ستون وغیرہ کو ستون بنائے‘تو اسے کس انداز میں اپنے سامنے رکھے؟ سیدہ ضباعہ بنت مقداد بن اسود اپنے والد ( سیدنا مقداد ؓ ) سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی لکڑی ، ستون یا درخت کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ اپنے دائیں یا بائیں ابرو کی طرف رکھتے ، بالکل عین سامنے نہ رکھتے تھے ۔ : یہ روایت سندا ضعیف ہے، اس لیے یہ بات ، جوا س میں بیا ن ہوئی ہے، صحیح نہیں ہے۔بنابریں سترے کےعین سامنے ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔بلکہ سترہ عین سامنے ہی ہونا چاہیے۔