Book - حدیث 690

کِتَابُ تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّتْرَةِ بَابُ الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ قُلْتُ لِسُفْيَانَ إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت مُسَدَّدًا قَالَ قَالَ ابْنُ دَاوُدَ الْخَطُّ بِالطُّولِ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ هَكَذَا يَعْنِي بِالْعَرْضِ حَوْرًا دَوْرًا مِثْلَ الْهِلَالِ يَعْنِي مُنْعَطِفًا

ترجمہ Book - حدیث 690

کتاب: سترے کے احکام ومسائل باب: اگر سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے‘ تو خط کھیچنے کا مسئلہ جناب ابومحمد بن عمرو بن حریث اپنے دادا حریث سے جو بنی عذرہ کے آدمی تھے ، وہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے ، وہ سیدنا ابوالقاسم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور لکیر کھینچنے والی حدیث بیان کی ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی جس سے ہم اس حدیث کو تقویت دے سکیں اور یہ صرف اسی سند سے مروی ہے ۔ ( ابن مدینی نے کہا ) میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ محدثین اس کے راوی میں اختلاف کرتے ہیں ( آیا یہ ابومحمد بن عمرو بن حریث ہے یا کوئی اور ) تو انہوں نے کچھ سوچا اور پھر کہا : مجھے ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے ۔ سفیان نے کہا کہ اسمٰعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک آدمی آیا اور اس ( آنے والے ) شیخ نے ابومحمد کو طلب کیا ، وہ مل گیا اور اس حدیث کے متعلق پوچھا مگر اسے اشتباہ ہو گیا ( یعنی وہ اسے صحیح طریقے سے بیان نہیں کر سکا ) ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا میں نے امام احمد بن حنبل ؓ سے سنا ، انہوں نے کئی بار خط کھینچنے کا وصف بیان کیا تو کہا کہ اس طرح عرض میں کھینچا جائے جیسے کہ ہلال ہوتا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : میں نے مسدد سے سنا انہوں نے کہا کہ ابن داود ( ابن داود خریبی ) نے کہا کہ یہ خط طول میں کھینچا جائے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : میں نے امام احمد بن حنبل ؓ سے سنا انہوں نے کئی بار اس خط کی صفت یہ بتائی کہ یہ عرض میں ہو اور ہلال کی مانند گولائی میں ہو ۔ حدیث 689 اور 690 دونوں ضعیف ہیں۔اس لیے ان سے خط کھینچنے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا ۔