Book - حدیث 607

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ -مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ-، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ؟ فَقَالَ: >إِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا<. قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ.

ترجمہ Book - حدیث 607

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے جناب حصین ، یہ سعد بن معاذ کی اولاد میں سے تھے ، سیدنا اسید بن حضیر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرایا کرتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارا امام بیمار ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو ۔ “ امام ابوداؤد ؓ نے کہا : یہ حدیث متصل نہیں ہے ۔ 1۔شیخ البانی کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔لیکن یہ اور اس مفہوم کی دیگر احادیث اوائل دور کی ہیں۔جس میں یہی حکم تھا کہ امام ومقتدی کھڑے ہونے یا بیٹھنے کی صورت یکساں ہوں۔مگر نبی کریم ﷺ کی آخری نماز میں جو آپ نے بیٹھ کر پڑھائی اس میں صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کھڑے ہوئے تھے۔تو وہ ان کی ناسخ ہے۔2۔نبی ﷺ بشری عوارض سے دو چار ہوتے رہتے تھے۔3۔نماز میں مقتدی کو انتقال ارکان میں امام سے پیچھے پیچھے رہنا واجب ہے۔وہ کسی بھی رکن میں امام سے پہل نہ کریں۔