Book - حدیث 604

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ< بِهِ بِهَذَا الْخَبَرِ... زَادَ: >وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا<. قَالَ أَبو دَاود: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ- >وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا<- لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ. الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.

ترجمہ Book - حدیث 604

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ “ اور اس روایت میں اضافہ کیا ” اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ اضافہ «وإذا قرأ فأنصتوا» یعنی جب امام قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۔ محفوظ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ ابوخالد کا وہم ہے ۔ اور دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔کہ جہری نمازوں میں مقتدی کو خاموش رہنے کا یہ حکم فاتحہ کے علاوہ کی قراءت کے لئے ہے۔ اور مقتدی کو ہر صورت میں خاموشی کے ساتھ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔