Book - حدیث 581

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ فِي كَرَاهِيَةِ التَّدَافُعِ عَلَى الْإِمَامَةِ ضعیف حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ- أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ-، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:ُ >إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ<.

ترجمہ Book - حدیث 581

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: امامت کا بار ایک دوسرے پر ڈالنے کی کراہیت طلحہ ام غراب ، عقیلہ سے جو کہ بنی فزارہ کی ایک خاتون تھی اور ان کی آزاد کردہ لونڈی تھی ، وہ سلامہ بنت حر سے جو خرشہ بن حر فزاری کی بہن تھی ، بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فر رہے تھے ” ( قرب ) قیامت کی علامات میں سے ( یہ بھی ) ہے کہ اہل مسجد امامت کو ایک دوسرے پر ٹالیں گے اور کسی کو نہیں پائیں گے جو ان کی امامت کرائے ۔ “ توضیح:یہ روایت سندا ضعیف ہے۔تاہم معنوی طور پر اس لئے صحیح ہے۔کہ قیامت کے قریب شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔اس کا یہ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے کو کہے گا کہ تم امامت کرائوَ ۔میں اس کا اہل نہیں ہوں۔کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔اس لئے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم وفضل سے بہرہ ور ہو تو بلاوجہ اس عمل سے انکار نہ کرے۔نیز مسلمانوں کو ایسے افراد تیار کرتے رہناچاہیے۔جوانکے دینی امور کے کفیل بن سکیں۔