Book - حدیث 542

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ فِي الصَّلَاةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الْإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا صحیح حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ, فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ.

ترجمہ Book - حدیث 542

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: اگر اقامت کے بعد امام نہ پہنچا ہو تو مقتدی حضرات بیٹھ کر اس کا انتظار کریں جناب حمید کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ کوئی آدمی اقامت ہو جانے کے بعد کسی سے کوئی بات کرے ( تو کیسا ہے ؟ ) تو انہوں نے مجھے انس بن مالک ؓ سے یہ حدیث سنائی کہ ( ایک بار ) نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی آ گیا اور اس نے آپ ﷺ کو ( کچھ دیر کے لیے ) روکے رکھا ، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی ۔ اقامت اور تکبیر تحریمہ میں فاصلہ ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔اور مناسب بات کرلینا بھی جائز ہے۔2۔رسول اللہ ﷺ انتہائی متواضع انسان تھے۔اور صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کی اذ حد دل جوئی فرمایا کرتے تھے۔