Book - حدیث 531

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ أَخْذِ الْأَجْرِ عَلَى التَّأْذِينِ صحيح م دون الاتخاذ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ: وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: >أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا<.

ترجمہ Book - حدیث 531

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: اذان پر اجرت لینا؟ سیدنا عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تم ان کے امام ہو اور ان کے ضعیف ترین کی اقتداء ( رعایت ) کرنا اور مؤذن ایسا مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔ “ اس روایت کا آخری حصہ اور موذن ایسا مقرر کرنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔ اولیٰ کیطرف اشارہ ہے۔یعنی افضل یہی ہے۔کہ یہ منصب کسی ایسے شخص کے سپرد کیا جائے۔جو اللہ کی رضا کےلئئے یہ کام کرے۔اگر ایسا کوئی شخص میسر نہ ہو تو تنخواہ پر موذ ن رکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس عمل میں ایک اہم دینی مصلحت ہے۔