Book - حدیث 528

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ ضعیف َدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ- أَوْ: عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ, قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا<. وقَالَ: فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ.

ترجمہ Book - حدیث 528

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: اقامت سنے تو کیا کہے؟ اہل شام کے ایک فرد نے شہر بن حوشب سے روایت کیا انہوں نے ابوامامہ یا نبی کریم ﷺ کے کسی دوسرے صحابی سے روایت کیا کہ سیدنا بلال ؓ نے اقامت کہنا شروع کی تو جب «قد قامت الصلاة» کہا تو نبی کریم ﷺ نے کہا «أقامها الله وأدامها» ” اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔ “ اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے کہ مذکورہ بالا سیدنا عمر ؓ کی حدیث میں گزرا ہے ۔ یہ روایت سندا ضعیف ہے۔تاہم پچھلے باب کی احادیث سے استدلال کیاجاتا ہے۔کہ اقامت کا جواب بھی دیا جائے اور (قد قامت الصلواۃ) کے جواب میں بھی یہی الفاظ دہرائے جایئں۔تفصیل کےلئے دیکھیں (فتح الباری 2/92)