Book - حدیث 5270

كِتَابُ السَّلَامِ بَابٌ فِي الْخَذْفِ صحیح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ قَالَ إِنَّهُ لَا يَصِيدُ صَيْدًا وَلَا يَنْكَأُ عَدُوًّا وَإِنَّمَا يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ

ترجمہ Book - حدیث 5270

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: کنکریاں اور پتھریاں مارتے پھرنا سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس سے کسی کا شکار نہیں ہوتا ، نہ کوئی دشمن زخمی ہوتا ہے ، البتہ کسی کی آنکھ پھوٹ سکتی ہے ، یا دانت ٹوٹ سکتا ہے ۔ “ 1۔بے مقصد کام سے ہر مسلمان کو ہمیشہ رہنا چاہیے بالخصوص بچوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بلا مقصد بیٹھےکنکر ،پتھر مارتے رہتے ہیں تو یہ ایک لغو اور مضر کام ہے نو خیزبچوں کو عمدہ طریقے سے سمجھاتے رہنا چاہیے تاکہ ا ن کی اٹھان خیر کے اعمال پر ہو ۔ 2 : شکار ایک عمدہ مقصد ہے اور اسی طرح میدان جہاد میں کفار کو نشانہ بنانا بھی ایک فضیلت کا عمل ہے ۔ 3 :نشانہ بازی کی مشق کے لئے اگر یہ کام کرنا ہو تو کسی ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں کسی کے لئے کو ئی ضررنہ ہو ۔ 4 :اگر اس کارستانی میں کسی عاقل بالغ سے کسی کی آنکھ پھوٹ گئی یادانت ٹوٹ گیا ،تو دیت لازم آئے گی ۔