Book - حدیث 5257

كِتَابُ السَّلَامِ بَابٌ فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ حسن حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا قَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أَقْتُلُهَا فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ

ترجمہ Book - حدیث 5257

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: سانپوں کو مارنے کا بیان سیدنا ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری ؓ کی خدمت میں آیا ۔ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس کی ، میں نے دیکھا تو وہ سانپ تھا ۔ چنانچہ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ، تو سیدنا ابوسعید ؓ نے پوچھا : کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے ۔ انہوں نے کہا : تو کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ اسے مارتا ہوں ۔ تو انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مکان کی طرف اشارہ کیا اور کہا : بیشک میرا چچا زاد اسی مکان میں رہتا تھا ۔ جنگ احزاب کے دن اس نے اپنے گھر آنے کی اجازت مانگی جب کہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا کہ مسلح ہو کر جانا ۔ وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے ۔ چنانچہ اس نے نیزے سے اس کی طرف اشارہ کیا ( مارنے لگا ) تو اس نے کہا : جلدی مت کرو ۔ پہلے دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے باہر نکالا ہے ؟ ( دیکھ لو کہ میں باہر کیوں نکلی ہوں ؟ ) چنانچہ وہ گھر کے اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک بدصورت سانپ تھا ۔ چنانچہ اس نے اپنا نیزہ اسی میں چبھو دیا اور اسی طرح چبھوئے ہوئے باہر لے آیا اور سانپ نیزے کے ساتھ تڑپ رہا تھا ۔ انہوں نے کہا ، مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے پہلے کون مرا ، وہ آدمی یا سانپ ؟ چنانچہ اس کی قوم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور انہوں نے کہا : دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس آدمی کو واپس ( زندہ ) کر دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا کرو ۔ “ پھر فرمایا ” مدینہ میں کچھ جن مسلمان ہوئے ہیں ، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین بار خبردار کرو ۔ اس کے بعد اگر قتل کرنے کا خیال ہو تو تیسری بار کے بعد قتل کرو ۔ “