Book - حدیث 5242

كِتَابُ السَّلَامِ بَابٌ فِي إِمَاطَةِ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ قَالُوا وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنْ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ

ترجمہ Book - حدیث 5242

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان سیدنا بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” انسان کے اندر تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ۔ تو اس پر واجب ہے کہ اپنے ہر ہر جوڑ کے بدلے صدقہ دیا کرے ۔ “ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کون اس کی ہمت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” مسجد میں پڑی رینٹ ( حلق کی آلائش ) کو دفن کر دینا ‘ راستے میں پڑی ( تکلیف دہ ) چیز ہٹا دینا اور اگر یہ نہ ہو سکے تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہیں اس ( تمام صدقے ) سے کافی ہو جائیں گی ۔ “ 1۔مسجد میں تھوکنا یا کسی طرح کی آلائش ڈالناگناہ ہے جب کہ اس کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا اورخرابی کا ازالہ کردینا ثواب کا کام ہے خواہ کچے فرش دبادینے کی صورت میں ہو یا ایسے کھرچ کر صاف کرنے کی صورت میں ۔ اسی طرح راستے سے اینٹ ،روڑا،پتھر یا کوئی اور رکاوٹ مثلا گڑھا وغیرہ دور کرنا انتہائی ثواب کا کام ہے اور جو یہ اور ان جیسی دوسری تکلیف دہ چیزیں راستے میں ڈالیں ان پر بہت بھاری گناہ ہے ۔ 2 :اشراق کے نفلوں کی فضلیت اس قدر ہت کہ بندے پر واجب شکر کا حق ادا ہوجاتا ہے ،مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کی وجہ سے انسان مالی صدقات سے بری الذمہ ہو جاتا ہے ۔