Book - حدیث 5229

كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ الرَّجُلِ یَقُومُ لِلرَّجُلِ یُعَظِّمُهُ بِذَالِكَ صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَامِرٍ اجْلِسْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

ترجمہ Book - حدیث 5229

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: ایک شخص کا دوسرے شخص کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا جناب ابومجلز بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا معاویہ ؓ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عامر ؓ کے ہاں آئے تو ابن عامر ؓ ( ان کے احترام میں ) کھڑے ہو گئے ۔ لیکن ابن زبیر ؓ بیٹھے رہے ۔ تو سیدنا معاویہ ؓ نے ابن عامر سے کہا : بیٹھ جائیں ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں تو اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ “ 1۔مجوسی اور دیگر اہل جاہلیت اپنے بڑے کا احترام اسی طرح کرتے تھی بلکہ اب تک ان کی یہی عادت ہے کہ بڑے کو احترام دینے کے لئے یہ لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب تک وہ خود نہ بیٹھ جائے یا بیٹھنے کا کہے نہیں ،نہیں بیٹھتے ہیں ۔ شرع اسلامی میں اس انداز سے احترام کا مطالبہ کرنا حرام ہے ۔ 2 :ہاں اگر کوئی محبت سے ازخود کھڑا ہو جائے بالخصوص جب آگے بڑھ کر مصافحہ اور معانقہ کرنا ہو تو کوئی حرج نہیں ،جیسے گزشتہ باب فی القیام ،حدیث٥٢١٥ میں گزرا ہے