Book - حدیث 5224

كِتَابُ السَّلَامِ بَابٌ فِي قُبْلَةِ الْجَسَدِ صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ أَصْبِرْنِي فَقَالَ اصْطَبِرْ قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ

ترجمہ Book - حدیث 5224

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: جسم پر بوسہ دینا جناب عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ ، سیدنا اسید بن حضیر ؓ سے روایت کرتے ہیں اور یہ انصار میں سے تھے کہ یہ ایک دفعہ اپنی قوم سے باتیں کر رہے تھے ۔ مزاحیہ آدمی تھے ۔ اور انہیں ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی کوکھ میں ایک لکڑی چبھو دی ۔ تو انہوں نے ( اسید بن حضیر نے ) کہا : مجھے بدلہ دیجئیے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” لے لو ۔ “ انہوں نے کہا : آپ پر تو قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں تھی ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیص اوپر کر دی ۔ تو اسید ؓ نے آپ ﷺ کو اپنے بازؤوں میں لے لیا اور آپ ﷺ کے پہلو پر بوسے دینے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میری یہی نیت تھی ۔ 1-رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ بڑی فرحت افزازندگی گزارتے تھے ۔ دینی امور کی انتہائی پابندی کے باوجود ان میں کہیں تندی ،کرختگی یا خشکی والی کیفیات نہ تھیں ۔ 2 :باوجود یہ کہ ہنسی مزاح جائز ہے ،مگرشریعت نے اجازت نہیں دی کہ اس کیفیت میں بھی کسی پر زیادتی ہو ۔ 3 :ظلم وزیادتی ،خواہ مزاح میں ہو شرعااس میں قصاص ہے ۔ 4 :صحابہ کرام رضی اللہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے اور آپ کو اپنے صحابہ سے ازحد پیار ومحبت تھی۔ 5 :اپنی محبوب ومحترم شخصیت کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلمکا تو کوئی ثانی نہیں تھا ۔