Book - حدیث 5216

كِتَابُ السَّلَامِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 5216

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: تعظیم کے لیے کھڑے ہونا جناب شعبہ نے یہ روایت بیان کی ۔ کہا کہ جب وہ مسجد کے قریب آئے تو آپ ﷺ نے انصاریوں سے فرمایا ” اپنے سردار کی طرف بڑھو ۔“ 1 :قوموکے لفظی معنی ہیں کھڑے ہو لیکن یہاں سیاق کے اعتبار سے اس کے معنی ہیں آگے بڑھو بنا بریں اپنے سرداراور بڑے تعظیم بجا لانا شرعی حق ہے ۔ 2 :آگے بڑھ کر استقبال ،سلام ،مصافحہ یا حسب احوال معانقہ جائز ہے ۔ 3 :لیکن عجمی انداز میں تعظیم کرنا کوئی بڑا آئے اور بیٹھے ہوئے لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو جائیں ،پھر جب وہ اجازت دے یا بیٹھجائے تو دوسرے لوگ بیٹھیں ،سراسرناجائز ہے ۔ سیدنا سعد رضی اللہ کے لئے جو فرمایا گیا ،تو وہ آگے بڑھ کر استقبال کرنا اور انہیں سواری سے اترنے میں مدد دینا تھا ،جیسے مسند احمد کی روایت میں ہے کہ (قوموالی سید کم فانزلوہ)۔