Book - حدیث 5214

كِتَابُ السَّلَامِ بَابٌ فِي الْمُعَانَقَةِ ضعيف حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ حَيْثُ سُيِّرَ مِنْ الشَّامِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا قُلْتُ إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ قَالَ مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ لِي فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ

ترجمہ Book - حدیث 5214

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: گلے ملنے کا بیان جناب ایوب بن بشیر بن کعب عدوی ، بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے سیدنا ابوذر غفاری ؓ سے کہا : جبکہ انہیں شام سے روانہ کر دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں بتا دوں گا ۔ میں نے کہا : کوئی راز کی بات نہیں ہے ۔ آپ لوگ جب رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو کیا رسول اللہ ﷺ تم لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : میں جب بھی آپ ﷺ سے ملا ، آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ فرمایا ۔ اور ایک دن آپ نے مجھے بلوایا ، مگر میں گھر میں نہیں تھا ۔ جب میں واپس آیا تو مجھے آپ ﷺ کے بلاوے کا بتایا گیا ۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچا ۔ آپ ﷺ اپنی چارپائی پر تشریف فر تھے ۔ تو آپ ﷺ نے مجھ سے معانقہ فرمایا اور یہ ( میرے لیے ) عمدہ ، بہت عمدہ بات تھی ۔ اس روایت سے معانقے کا اثبات نہیں ہوتا ،کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اسی طرح ایک روایت سنن ترمذی میں ہے کہ جب حضرت حارثہ رضی اللہ مدینہ آئے اور آکر رسول صلی اللہ علیہ وسلمسے ملے ،تو رسولصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے معانقہ فرمایااور انہیں بوسہ دیا ،یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔ بظاہرہر کوئی صحیح مرفوع حدیث اس سلسلے میں ثابت نہیں ،البتہ حضرت انس رضی اللہ کا یہ اثر صحیح سند سے منقول ہے جس میں انہوں نے صحابہ کا یہ عمل بیان کیا ہے کہ وہ آپس میں ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب وہ سفرسے آتے تو باہم معانقہ کرتے (بغل گیر ہوتے۔ )