Book - حدیث 519

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْأَذَانِ فَوْقَ الْمَنَارَةِ حسن حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ، يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَال:َ اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً. –تَعْنِي: هَذِهِ الْكَلِمَاتِ-.

ترجمہ Book - حدیث 519

کتاب: نماز کے احکام ومسائل باب: مینار پر اذان کہنا بنو نجار کی ایک خاتون سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرا گھر مسجد کے اطراف کے گھروں میں سب سے اونچا تھا ۔ سیدنا بلال ؓ فجر کی اذان اسی پر آ کر دیا کرتے تھے ۔ وہ سحر کے وقت آ کر اس پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے جب صبح کو طلوع ہوتا دیکھتے تو انگڑائی لیتے اور کہتے : اے اللہ ! میں تیری تعریف کرتا ہوں اور قریش پر تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں ۔ وہ بیان کرتیں ہیں کہ پھر اذان کہتے ۔ قسم اللہ کی ! مجھے نہیں معلوم کے بلال نے کسی رات بھی یہ کلمات چھوڑے ہوں ۔ 1۔اونچی آواز اور اونچی جگہ سے اذان کہنا مستحب ہے مگر آج کل کے لائوڈ سپیکروں نے یہ کمی پوری کردی ہے۔2۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اذان سے پہلے دعایئہ کلمات کسی طرح بھی اذان کا حصہ نہ تھے۔بلکہ یہ عام طرح کی دعا ہوتی تھی۔ جس میں وہ کافی دیر سے مشغول ہوتے۔اور صبح صادق کا انتظار کر رہے ہوتے تھے ۔قریش کی ہدایت کے لئے دعا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس قبیلے کو عربوں میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔اس مخالفت کی وجہ سے عام عرب بھی اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ جب اللہ نے اس قبیلے کو اسلام قبول کرنے کی توفیق سے نوازاتو پھر فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔