Book - حدیث 5186

كِتَابُ النَّومِ بَابُ كَمْ مَرَّةً يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الِاسْتِئْذَانِ صحیح حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلْ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ

ترجمہ Book - حدیث 5186

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل باب: اجازت طلب کرتے ہوئے آدمی کتنی بار السلام علیکم کہے ؟ حضرت عبد الله بن بسرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب کسی کے دروازے پر جاتے تو اس کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوئے کرتے تھے۔بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑے ہوتے اور فرماتے ’’السلام علیکم‘‘ السلام علیکم‘‘اور ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوا کرتے تھے۔ 1۔ دروازے پر آنے والے کو چاہیے کہ اس کی دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑا ہو ‘تاکہ گھر والوں پر نظر نہ پڑے۔ 2- جب رسول اللہﷺ جیسی اہم اور محبوب شخصیت اجازت لینے کا اہتمام کرتی تھی تو دوسروں کو بطریق اولی اس پر عمل کرنا چاہیے۔