Book - حدیث 5138

كِتَابُ النَّومِ بَابٌ فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِي طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلِّقْهَا

ترجمہ Book - حدیث 5138

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل باب: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان جناب حمزہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا:میری زوجیت میں ایک عورت تھی اور مجھے اس سے محبت تھی۔مگر حضرت عمرؓ اسے ناپسند کرتے تھے۔تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو۔میں نے انکار کیا‘ تو حضرت عمرؓ نبیﷺ کی خدمت میں گئے اور اپنی بات ان سے کہی۔نو نبیﷺ نے(مجھ سے) فرمایا::’’اس عورت کو طلاق دے دو‘‘ باپ کا یہ مقام اور حق ہے۔کہ اگر وہ بیتے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔تو اسے یہ حکم ماننا چاہیے مگرشرط یہ ہے کہ باپ جو اپنے بیتے سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کررہا ہے۔خود حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صفات کا حامل ہو۔اور اس میں کوئی ہوائے نفس اور تعصب کی بات نہ ہو۔صرف شرعی مصلحت پیش نظر ہو جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آتا ہے۔