Book - حدیث 5067

كِتَابُ النَّومِ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ, أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ! قَالَ: >قُلِ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ، وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ- قَالَ:- قُلْهَا إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ<.

ترجمہ Book - حدیث 5067

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل باب: صبح کے وقت کی دعائیں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی کلمات ارشاد فرمائیں جو میں صبح اور شام کے وقت پڑھا کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ پڑھا کرو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمیں کے پیدا کرنے والے ! پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے ! ہر شے کے پالنے والے اور اس کے مالک ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ میں اپنے نفس کی شرارت ، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ “ یہ دعا صبح ، شام اور سوتے وقت پڑھا کرو ۔ “ مستحب ہے کہ انسان صُبح شام اوررات کوسوتے وقت یہ مُبارکہ دُعا پڑھا کرے۔2۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا عظیم انسان بھی اس با ت کا محتاج ہے کہ اللہ تعالیٰ کازکر جیسے عام عمل میں نبی کریمﷺاوراس کی وحی سے علم حاصل کرے۔کجا یہ کہ بعض لوگوں نے اپنی من مرضی سے حمد وثنا اور درود وسلام کے لمبے چوڑے وظیفے اور صحیفے ایجاد کیے اور اتباع رسول ﷺکی فضیلت اور اجر سے محروم رہے اور اپنے حلقہ بگوشوں کو بھی محروم رکھا۔علاوہ ازیں عقیدے اور عمل کافساد اس سے بڑھ کر ہے۔بلکہ صاحب ایمان کو اپنے ہر عمل میں نبی کریمﷺ سے ہدایت لینے کا شائق رہنا چاہیے۔3۔انسان علم وفضل میں جس قدر اونچے مرتبے پر ہو اسے اپنے نفس کی شرارت اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رہنے کےلئےاس قدر زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔اور وہ اللہ کی عنایت کے سوا کہیں ممکن نہیں۔4۔اس دُعا کاآخری لفظ شرکہ کی ایک روایت شرکہ بھی ہے یعنی شین اور را دونوں پر فتحہ(زبر) تو معنی ہوں گے۔ میں شیطان کے جال اور پھندے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔