Book - حدیث 5065

كِتَابُ النَّومِ بَابٌ فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ صحیح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >خَصْلَتَانِ- أَوْ خَلَّتَانِ- لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ, إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ, هُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ, إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ, فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ<. فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ؟ قَالَ: >يَأْتِي أَحَدَكُمْ- يَعْنِي: الشَّيْطَانَ- فِي مَنَامِهِ، فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ، وَيَأْتِيهِ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا<.

ترجمہ Book - حدیث 5065

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل باب: سوتے وقت تسبیحات کا ورد سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” دو عمل ایسے ہیں اگر کوئی مسلمان بندہ ان کی پابندی کر لے ، تو جنت میں داخل ہو گا اور وہ بہت آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں ۔ ( ایک یہ ہے کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہے تو زبان کی ادائیگی کے اعتبار سے ایک سو پچاس بار ہے ( مجموعی طور پر پانچوں نمازوں کے بعد ) اور ترازو میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے اور جب سونے لگے تو چونتیس بار «الله اكبر» تینتیس بار «الحمد الله» اور تینتیس بار «سبحان الله» کہے ۔ زبانی طور پر تو یہ ایک سو بار ہے مگر میزان میں یہ تسبیحات ایک ہزار ہوں گی ۔ “ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے شمار کرتے تھے ۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! یہ کیسے ہے کہ یہ عمل آسان ہے مگر کرنے والے تھوڑے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” سوتے وقت میں کسی کے پاس شیطان آ جاتا ہے اور پہلے اس سے کہ وہ یہ تسبیحات پوری کر لے ، وہ اسے سلا دیتا ہے اور ( اسی طرح ) نماز میں شیطان آ جاتا ہے اور اسے کوئی کام یاد دلا دیتا ہے تو وہ انہیں پڑھے بغیر ہی اٹھ جاتا ہے ۔ “ ہر نیکی اور خیر اللہ عزوجل کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اور انسان اس پر اس کی توفیق ہی سے عمل پیرا ہوسکتا ہے۔اور ہر بُرائی اور شر میں شیطان کا عمل دخل ہوتا ہے۔اور نیکی سے محروم رہ جانا بہت بڑا عیب اور وبال ہے۔اس لئے دعا کرتے رہنا چاہیے۔کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ نیکی کی توفیق عنایت فرماتا رہے۔مثلا یہ دعا کرے۔(رب اعني علي زكرك وشكرك وحسن عبادتك)