Book - حدیث 5025

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّؤْيَا صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ, أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ, أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ<.

ترجمہ Book - حدیث 5025

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: خوابوں کا بیان سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میں نے آج رات دیکھا گویا ہم عقبہ بن رافع ؓ کے گھر میں ہیں اور ہمیں ( مدینہ کی معروف عمدہ ) تازہ کھجور ابن طاب پیش کی گئی ہے ۔ تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت و سربلندی حاصل ہو گی اور آخرت میں انجام عمدہ ہو گا اور ہمارا دین بھی خوب ( پھل پھول گیا ) ہے ۔ “ خواب کی تعبیر میں بعض اوقات الفاظ ومناظرسے بھی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔تو مندرجہ بالا خواب میں لفظ عقبہ سے عاقبت (عمدہ انجام) رافع سے رفعت وسربلندی اور ابن طاب سے طیب اور عمدہ ہونا سمجھا گیا ہے۔جو بحمد للہ ایک تاریخی حققیت ثابت ہوا ہے۔