Book - حدیث 5023

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّؤْيَا صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ- أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ-، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي<.

ترجمہ Book - حدیث 5023

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: خوابوں کا بیان سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے جاگتے میں بھی دیکھے گا ، یا فرمایا کہ اس نے گویا مجھے جاگتے میں دیکھا ۔ اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔“ نبی ﷺ کا یہ خاصہ ہے۔کہ شیطان آپ کی شکل نہیں اختیار کرسکتا۔ البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسری شکل دیکھا کر ایسا وہم دلائے کہ یہ رسول اللہﷺ ہیں۔تو اس لئے ضروری ہے کہ انسان اس دیکھی ہوئی شکل کا موازنہ ان صفات سے کرے۔جن کا زکر کتب احادیث میں آیا ہے۔ یا کسی صاحب علم سے اس کی تصدیق حاصل کرے۔ والد مرحوم شیخ عبدالعزیز سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک بدعتی شخص نے بزعم خویش بڑے زوق وشوق سے بتایا کہ میں نے نبی کریمﷺ کی خواب میں زیارت کی ہے۔والد صاحب نے تفصیل پوچھی تو بولا کہ میں نے ایک نورانی شخصیت دیکھی جس کی سفید براق ڈاڑھی تھی۔والد صاحب نے فورا ً ۔لاحول ولا قوہ الا باللہ پڑھا اور واضح کیا کہ تم نے کسی شیطان کو دیکھا ہے۔الغرض خواب میں نبی کریم ﷺ کودیکھنے والا قیامت میں جاگتے ہوئے آپﷺ کودیکھے گا اور اسے ایک طرح کا خاص قرب حاصل ہوگا۔ورنہ دیگر اصحاب ایمان بھی تو آپ ﷺ کودیکھیں گے۔