Book - حدیث 5011

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعرِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا.

ترجمہ Book - حدیث 5011

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: شعر و شاعری کا بیان سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اپنے مخصوص انداز میں باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں اور بلاشبہ کئی شعر حکمت ہوتے ہیں ۔ “ یہ احادیث دلیل ہیں۔کہ خطبائے اسلام مدرسین شریعت اور طلبہ کرام کو چاہیے کہ اپنے دعوتی بیانات کو حکمت بھرے اشعار اور عمدہ اسلوب بیان سے مزین بنانے میں محنت کریں تاکہ ابلاغ حق اور ابطال باطل کافریضہ بحسن وخوبی ادا ہو اور دین اور اہل دین کا علم سر بلند ہو۔بھدے خطیب اور بے ربط وغیرہ مدلل متکلم اور مدرس نہ صرف اپنی بلکہ دین اسلام اور داعیان حق کی تضحیک ومذمت کا باعث بنتے ہیں۔