Book - حدیث 50

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الرَّجُلِ يَسْتَاكُ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ الْآخَرِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا قَالَ أَحْمَدُ هُوَ ابْنُ حَزْمٍ قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ

ترجمہ Book - حدیث 50

کتاب: طہارت کے مسائل باب: انسان کسی دوسرے کی مسواک استعمال...؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور آپ ﷺ کے پاس دو شخص تھے ۔ ان میں سے ایک بڑا ( اور دوسرا چھوٹا ) تھا ۔ ( اسی اثناء میں ) آپ ﷺ پر مسواک کی فضیلت کے بارے میں وحی کی گئی اور یہ کہ آپ یہ ( مسواک ) بڑے کو دے دیجئیے ۔ فوائد ومسائل: (1) معلوم ہوا کہ جب کسی کو کوئی چیز دینی ہو تو بڑی عمر والے کو فوقیت دی جائے بشرطیکہ ترتیب سے نہ بیٹھے ہوں ۔ اگر ترتیب سے بیٹھے ہوں تو دائیں طرف والے کا حق فائق ہوگا ، خواہ چھوٹا ہی ہو۔ ایسے ہی بات چیت کرنے اور راہ چلنے میں بھی بڑی عمر والے کو اولیت دی جانی چاہیے۔ (2) کوئی اپنی استعمال شدہ مسواک دوسرے کو دے تو اس کے استعمال کرلینے میں کوئی حرج نہیں اور ظاہر ہے کہ دھو کر ہی استعمال ہوگی ۔ مگر نئی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کو اس سے گھن آتی ہے ۔ ا ور یہ ان کی شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔