Book - حدیث 4994

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي حُسْنِ الظَّنِّ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، وَقُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >عَلَى رِسْلِكُمَا, إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ<، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ! يَا رَسُولَ اللَّهِ!؟ قَالَ: >إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ, فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا- أَوْ قَالَ: شَرًّا-<.

ترجمہ Book - حدیث 4994

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: اچھا گمان رکھنے کا بیان ام المؤمنین سیدہ صفیہ ؓا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے اور میں رات کے وقت آپ ﷺ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئی ۔ میں آپ ﷺ سے باتیں کرتی رہی ، پھر اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ ﷺ بھی میرے ساتھ اٹھے تاکہ مجھے واپس پہنچا آئیں اور میری رہائش سیدنا اسامہ بن زید ؓ کے احاطہ میں تھی ۔ تو انصاریوں کے دو آدمی گزرے ۔ انہوں نے جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو ذرا تیزی سے چلنے لگے ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ٹھہر جاؤ ! یہ ( میرے ساتھ ) صفیہ بنت حیی ہے ۔ ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ( اللہ پاک ہے ) اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا ” بالاشبہ شیطان انسان کے جسم میں ایسے گردش کرتا ہے جیسے خون ۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ ڈال نہ دے ۔ “ یا فرمایا ” کوئی بری بات نہ ڈال دے ۔ “ 1) اعتکاف کے دوران میں جائزہے کہ بیوی معتکف کو ملنے کے لئے آئےاور وہ آپس میں گفتگو کریں۔ 2) معتکف اپنی فطری ضروریات کے لئے مسجد سے باہر جاسکتاہے۔ مثلا قضائے حاجت یا ضروری غسل لے لئے جبکہ مسجد میں ان کا معقول انتظام نہ ہو،اسی طرح شدید بیماری کی حالت میں بھی جبکہ مسجد میں طبی امداد پہنچنے کے مواقع نہ ہوں تو اس قسم کے تمام حالات میں مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔ 3) انسان کو تہمت اور شبہے کےمقامات سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیئے۔ نبیﷺ نے اپنی اہلیہ محترمہ کا تعارف کراکے اس شہبے کازالہ فرمادیا۔ 4) شیطان انسان کے جسم میں ایسے گردش کرتا ہے جیسے خون اس لیے اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تعوذ(اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) بہت زیادہ بڑھنا چاہئے۔