Book - حدیث 4991

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابٌ فِي التَّشْدِيدِ فِي الْكَذِبِ حسن حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ مَوَالِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ, أَنَّهُ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا، فَقَالَتْ: هَا, تَعَالَ أُعْطِيكَ! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟<، قَالَتْ: أُعْطِيهِ تَمْرًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ<

ترجمہ Book - حدیث 4991

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: جھوٹ بولنے کی مذمت سیدنا عبداللہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میری والدہ نے مجھے بلایا ۔ ادھر آؤ ، چیز دوں گی اور رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فر تھے ۔ آپ ﷺ نے میری والدہ سے دریافت فرمایا ” تم اسے کیا دینا چاہتی ہو ؟ “ انہوں نے بتایا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی ہوں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا ۔ ” اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔ “ سچ اور جھوٹ بولنے کا تعلق بڑےآدمیوں ہی سےنہیں،چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی ہے بلکہ بعض صالحین نے تو اسے جانوروں تک وسیع کیا ہےکہ آدمی کسی جانور کو ایسی آواز دے یا جھولی بنا کر اسے ہلائےاور اسے تاثر دے کہ اس میں گھاس دانہ وغیرہ ہے، حالانکہ اس میں کچھ نہ ہو تو وہ اسے چھوٹ قرار دیتے ہیں۔ بہرحال جھوٹ ایک قبیح خصلت ہے۔اس سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔ سوائے تین مقامات کے جن کا ذکر پیچھے (حدیث:4920-21 )گزر چکا ہے۔ بعض محققین نے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے۔